Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیع سلم میں قبضہ سے پہلے چیز بیچنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4471-WAT
Issued
02 جمادی الثانی 1447ء 24 نومبر 2025.

Question

بیع سلم میں قبضہ سے پہلے مبیع بیچنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ہم بیع سلم کے ذریعے کوئی چیز خریدیں اور پھر چیز پر خود قبضہ کئے بغیر، ڈائریکٹ کسٹمر کو چیز بھیج دیں، تو یہ بیع قبل القبض تو نہیں ہوگی ؟ کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

منقولی چیز کسی کو بیچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اپنی ملک میں ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر قبضہ بھی پایا جائے ، اب خواہ عام بیع ہویا بیع سلم ، بدیع خود آپ کے یا آپ کے وکیل کے قبضے میں ہوگی ، تب آپ کا آگے کسی اور کو بیچنا جائز ہوگا ورنہ نہیں ۔ جو چیز خریدلی ہو، اس پر قبضہ کیے بغیر آگے فروخت کرنے کے بارے میں صحیح مسلم میں ہے قال رسول الله صلى الله علیه وسلم: من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يقبضه، قال ابن عباس: وأحسب كل شيء بمنزلة الطعام“ ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص غلہ خریدے، تو قبضہ کرنے سے پہلے اس کو آگے نہ بیچے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.