Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازِ جنازہ کے بعد دعا کا ثبوت

Question

حدیث پاک "اذا صلیتم علی المیت فاخلصوالہ الدعاء" سے طریقہ استدلال دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حدیث پاک "اذا صلیتم علی المیت فاخلصوالہ الدعاء" سے ہم نماز جنازہ کے بعد دعا ثابت کرتے ہیں ، اس میں ہمارے لیے کیسے دلیل ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

اس حدیث سے ہم یوں استدلال کرتے ہیں کہ : "اذا صلیتم " شرط اور " فاخلصوالہ الدعاء " جزا ہے ۔ اور شرط اور جزا کے درمیان تغایر ہوتا ہے ( یعنی وہ ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں، نہ کہ جزا، شرط میں داخل ہوتی ہے ، پھر صلیتم ماضی (PAST) ہے اور فاخلصوا امر ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا مانگنے کا حکم نماز جنازہ کے بعد ہے ، نیز " فاخلصوا" کے شروع میں "فا" ہے اور جمہور کے نزدیک " فا تر تیب مع الوصل کے لیے آتی ہے ( یعنی یہ بتانے کے لیے کہ فا، کے بعد والا کام ، اس سے پہلے والے کام کے فورا بعد پا یا جائے گا) جبکہ اس کے خلاف کوئی اور قرینہ نہ پایا جائے ، اسی وجہ سے شرط کی جزاء میں حرف فاء لایا جاتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.