Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سالی کی بیٹی سے زنا کرنے سے نکاح پر اثر پڑے گا؟
- Fatwa no.
- 4467-WAT
- Issued
- 03 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 25 نومبر 2025ء
Question
سالی کی بیٹی سے زنا کرنے سے نکاح پر کوئی فرق پڑے گا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی مرد اپنی بیوی کی بہن یعنی سالی کی بیٹی (جو عرف عام میں بھانجی یا ما سا کہلاتی ہے) کے ساتھ بدکاری کرلے ، تو اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟ اور اس کی اپنی بیوی کے نکاح پر کیا اثر پڑے گا؟ جواب
Answer (beginning)
زنا گناہ کبیرہ اور سخت حرام کام ہے ، لہذا اگر کوئی شخص اپنی سالی کی بیٹی سے بدکاری کرے ، تو وہ سخت گناہ گار ہوگا اور اس پر لازم ہو گا کہ اس گندے فعل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرے ، اور آئندہ اس عورت سے دور رہے ، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹے گا، اور نہ اس کی بیوی اس پر حرام ہو گی، اس لئے کہ جس عورت کے ساتھ زنا کیا جائے ، اس کے اصول و فروع ، زانی پر حرام ہوتے ہیں، جبکہ صورت مسئولہ میں زانی کی بیوی ، اس کی سالی کی بیٹی (جس سے اس نے زنا کیا ہے ، اس) کے اصول و فروع میں سے نہیں ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.