Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حضرت آدم کی طرف گناہ کی نسبت کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
4464-WAT
Issued
30 جمادی الاولی 1447 / 22 نومبر 2025ء

Question

حضرت آدم علیہ الصلاة و السلام کی طرف گناہ کی نسبت کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک عورت نے ویسے ہی بات چیت کرتے ہوئے ، یوں کہا کہ حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے گناہ ہوا تھا ، پھر اللہ نے ان کو زمین پر بھیج دیا ، یہ کہنا کیسا ؟ اور کیا اس پر تجدید ایمان اور تجدید نکاح ضروری ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

اس عورت کا یوں کہنا شرعاً ناجائز ، گناہ اور سخت حرام ہے ، اس پر لازم ہے کہ اس سے توبہ کرے؛ کیونکہ تلاوت قرآن پاک اور روایت احادیث کے علاوہ اس واقعہ اور اس بات کو یوں بیان کر ناسخت حرام اور گناہ ہے، بلکہ بعض علمائے کرام نے اس طرح بیان کرنے کو کفر قرار دیا ہے ، لہذا اس عورت کو چاہیے کہ احتیاطا تو بہ و تجدید ایمان کرلے ۔ امام اہلِ سنت ، امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ (سال وفات : 1340ھ) فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں : "غیر تلاوت میں اپنی طرف سے سید نا آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف نافرمانی و گناہ کی نسبت حرام ہے ۔ ائمہ دین نے اس کی تصریح فرمائی بلکہ ایک جماعت علمائے کرام نے اسے کفر بتایا ۔ ۔ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.