Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میت کو سرمہ لگا سکتے ہیں؟

Answered by
ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
Fatwa no.
4462-WAT
Issued
29 جمادی الاولی 1447ھ /21 نومبر 2025ء كان الامية الملاك

Answer (beginning)

میت کو سرمہ لگانا مکروہ تحریمی ، ناجائز و گناہ ہے کہ یہ زینت ہے اور میت زینت کا محل نہیں ہے ، جیسا کہ فقہائے کرام نے زینت کے دیگر کام جیسے ناخن تراشنے اور بال مونڈنے وغیرہ سے منع کیا ہے ۔ بدائع الصنائع میں ہے "لا تقص أظفاره وشاربه ولحيته ولا يختن ولا ينتف إبطه ولا تحلق عانته ولأن ذلك يفعل لحق الزينة والميت ليس بمحل الزينة ولهذا لا يزال عنه شيء “ ترجمہ : میت کے ناخن اور داڑھی مونچھوں کے بال نہ تراشے جائیں، نہ ختنہ کیا جائے ، نہ بغل کے بال اکھاڑے جائیں اور نہ موئے زیر ناف کاٹے جائیں، کیونکہ یہ کام زینت کے لئے کیے جاتے ہیں اور میت زینت کا محل نہیں ، اسی لئے اس سے کوئی چیز زائل نہیں کی جائے گی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.