Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
انسانی ہڈیوں کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 4459-WAT
- Issued
- 28 جمادی الاولی 1447ھ /20 نومبر 2025ء كان الامية الملاك
Question
انسانی ہڈیوں کی خرید و فروخت کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ انسانی ہڈیوں کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟ اور اگر کسی نے ایسا کر لیا ہے ، تو وہ حاصل ہونے والی رقم کا کیا کرے ؟ جواب
Answer (beginning)
انسانی ہڈیاں ، انسان کے اجزا ہیں اور انسانی اجزا مال نہیں ہیں، لہذا انسانی ہڈیوں کی خرید و فروخت باطل و ناجائز وگناہ ہے ۔ معاذ اللہ اگر کسی نے انسانی ہڈیاں فروخت کر کے رقم حاصل کرلی ہے ، تو اس پر لازم ہے کہ وہ تو بہ بھی کرے اور جس شخص سے وہ رقم حاصل کی ہے ، اُسے واپس کرے کہ وہ رقم بدستور مشتری (خرید نے والے) کی ملک پر باقی ہے ، اس رقم کو ذاتی استعمال میں لانا ، ناجائز وگناہ ہے۔ انسانی اجزا مال نہیں ہیں، لہذا ان کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے ، اس کے متعلق العنایہ میں ہے جزء الآدمی لیس بمال۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.