Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سجدے میں ہاتھ زمین پر نہ رکھنا کیسا؟
Question
عذر کی وجہ سے سجدے میں ہاتھ زمین پر نہ رکھنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میرے والد صاحب کا بچپن میں ہاتھ ٹوٹ گیا تھا جس وجہ سے ان سے سجدے میں جاتے ہوئے ہاتھ زمین پر رکھا نہیں جانتا ، اور میرے والد صاحب حالت سجدہ میں اپنی کمر کے پیچھے ہاتھ کر لیتے ہیں تو کیا میرے والد صاحب کی نماز صحیح ادا ہو جاتی ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
عذر کی وجہ سے سجدے میں ہاتھ زمین پر نہیں رکھا جاتا تو اس سے نماز میں کوئی فرق نہیں آئے گا، نماز درست ہو جائے گی ۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ : حدیث پاک کے مطابق سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، جن میں دونوں ہاتھ بھی شامل ہیں اور نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے بھی سجدے میں ہمیشہ دونوں ہاتھ مبارک زمین پر رکھے ہیں، ان کا تقاضا ہے کہ سجدے میں دونوں ہاتھوں کا زمین پر رکھنا واجب ہے اور محقق علی الاطلاق علامہ ابن حمام علیہ الرحمۃ نے اسے اختیار فرمایا ہے اور بحر میں اسے اصول کے موافق ہونے کی وجہ سے اعدل الاقول ، قرار دیا ہے اور حلیہ میں اسے حسن قرار دیا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.