Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عمل کرنے سے پہلے اس کا ایصالِ ثواب کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4450-WAT
- Issued
- 25 جمادی الاولی 1447ھ / 17 نومبر 2025ء
Question
عمل کرنے سے پہلے اس کا ایصالِ ثواب دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے محلے میں ایسا ہوتا ہے کہ گھروں میں پارہ نمبر کی پرچی لکھ کر دے دی جاتی ہے ، تاکہ وہ گھر والے اس کو پڑھ لیں ، وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم اس کو پڑھ دیں گے ، لیکن انہوں نے ابھی پڑھا بھی نہیں ہوتا، پھر بھی مقررہ دن پر مکمل قرآن کا ایصال ثواب کر دیا جاتا ہے ، کیا اس طرح عمل سے پہلے ثواب بخشنا جائز ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
کوئی بھی نیک عمل مثلا قرآن کریم کی تلاوت یا صدقہ و خیرات کرنے سے پہلے ، اس کا ثواب میت کو ایصال کر دینا شرعاً جائز ہے ، کیونکہ ایصال ثواب در حقیقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کا نام ہے اور دعا کے لئے اس ثواب کا فی الحال حاصل ہونا ضروری نہیں ، ہاں ! میت کو صدقہ و قراءت و غیرہ اصل نیک اعمال کا ثواب اس وقت ملے گا ، جب اس عمل کو ادا کر لیا جائے گا، لہذا جس نیک عمل کا ثواب ایصال کیا تھا ، اگر وہ عمل اس نے نہ کیا ، تو اب میت کو اس کا ثواب نہیں پہنچے گا اور ایصال ثواب کرنا لغو ہو جائے گا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.