Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
معلق نذر کام ہونے سے پہلے ہوگی یا بعد میں؟
- Answered by
- مولانا محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4448-WAT
- Issued
- 25 جمادی الاولی 1447ھ / 17 نومبر 2025ء
Question
معلق نذر کو کام ہونے سے پہلے ادا کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے روزہ رکھنے کی منت مانی ہو مثلاً یوں کہا کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں ایک روزہ رکھوں گا " تو کیا کام پورا ہونے کے بعد روزہ رکھا جائے گا یا پہلے بھی رکھ سکتے ہیں اور پہلے رکھنے میں منت کے لئے کفایت کر جائے گا؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں کام ہو جانے سے پہلے روزہ رکھنا منت کے لئے کافی نہیں ہو گا اور رکھ لیا تو یہ نفی ہوگا، منت پوری ہونے کے بعد دوبارہ روزہ رکھنا ہو گا، اس لئے کہ اگر منت کو کسی شرط پر معلق کر دیا ہو تو شرط کے پائے جانے کے بعد منت لازم ہوتی ہے ، لہذا جب کام ہوا ہی نہیں ، تو منت واجب بھی نہیں ہوئی، تو اس کو ادا کرنا محض نفل ہو گا۔ تنویر الابصار والدرالمختار میں ہے " (بخلاف) النذر (المعلق) فإنه لا يجوز تعجيله قبل وجود الشرط ترجمہ : بخلاف نذر معلق کے کہ اسے شرط کے پائے جانے سے پہلے ادا کرنا درست نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.