Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مہرمہ نام کا مطلب نیز یہ نام رکھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4447-WAT
- Issued
- 25 جمادی الاولی 1447 ھ / 17 نومبر 2025 ء علم الافتاء اهلسنت
Question
کیا بچی کا نام "مہر مہ " رکھنا جائز ہے ؟ جواب مہرمہ نام رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
مہر مہ نام رکھنا جائز ہے ۔ البتہ ا بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں ، صحابیات رضی اللہ تعالی عنھن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، نیز امید ہے کہ ان بزرگ ہستیوں کی برکت بچی کے شامل حال ہوگی ۔ تفصیل یہ ہے کہ "مہر مہ " دو لفظوں (مہر اور مہ) کا مجموعہ ہے ۔ مہر کا مطلب : "محبت ، دوستی، الفت، پیار، شفقت، سورج ہے ۔ " اور مہ کا مطلب : " چاند" ہے ۔ اس لحاظ سے "مہرمہ کا ایک معنی ہوگا : "سورج چاند " ۔ لہذا یہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.