Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایک مسجد کے قریب دوسری مسجد بنانا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
4445-WAT
Issued
26 جمادی الاولی 1447ھ / 18 نومبر 2025ء كان الامية الملاك

Question

ایک مسجد کے قریب دوسری مسجد بنانے کا حکم ایک مسجد کے قریب دوسری مسجد بنانا کیسا ہے ؟ جواب دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

مسجد کے قریب دوسری مسجد نمازوں کو قائم کرنے اور اللہ تبارک و تعالی کی رضا کے لیے بنائی جائے ، تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ اچھی نیت کے ساتھ بنا نا باعث اجر و ثواب ہے ۔ ہاں ! اگر مسجد بنانے میں کوئی غرض فاسد ہو، اللہ عزوجل کی رضا کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کو متفرق کرنے کے لیے اور محض ضد میں آکر مسجد بنائی جائے، تو یہ مسجد ضرار کے حکم میں شمار ہوگی، لیکن یہ معاملہ چونکہ نیت پر موقوف ہے اور نیت کا حال ہم سے پوشیدہ ہے ، اس لیے جب تک شرعی اعتبار سے واضح نہ ہو جائے کہ بنانے والے بری نیت سے بنائی ہے ، تب تک اس پر خود سے کوئی حکم ہر گز نہیں لگا سکتے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.