Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ولی میں اللّٰہ کے حلول کا عقیدہ رکھنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
4441-WAT
Issued
23 جمادی الاولی 1447 / 15 نومبر 2025ء

Question

کسی ولی میں اللہ تعالی کے حلول کئے ہونے کا عقیدہ رکھنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو شخص اللہ تعالی کے نیک بندوں میں سے کسی ولی کے متعلق واقعی یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اس میں اللہ نے حلول کیا ہوا ہے (معاذ اللہ)، تو شریعت مطہرہ میں اس شخص پر کیا حکم شرع لگے گا؟ جواب

Answer (beginning)

اللہ عزوجل کسی شے میں حلول فرمانے سے پاک و منزہ ہے، کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ "اللہ عزوجل نے کسی ولی وغیرہ میں حلول کیا ہوا ہے (معاذ اللہ) تو وہ کافر ہے ۔ الاسماء والصفات للبیہ بھی میں ہے "ربنا عن الحلول والمماسة علواً كبيراً ترجمہ : ہمارا رب حلول و مس سے بہت بلند ہے ۔ (الاسماء و الصفات للميه بتی، جلد 2، صفحہ 307، مكتبة السوادي ، جدة) امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : ” وقال الإمام أقضى القضاة أبو الحسن الماوردي صاحب الحاوي الكبير في مناظرة ناظرهالبعض النصارى في ذلك القائل بالحلول أو الاتحاد: ليس من المسلمين بالشريعة بل في الظاهر و التسمية ـــ وقال القاضي عياض في…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.