Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

والد کے چچا زاد بھائی سے نکاح ہوسکتا ہے؟

Answered by
مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
4438-WAT
Issued
22 جمادی الاولی 1447ھ /14 نومبر 2025ء عالم الامية الملاك

Question

والد کے چا زاد بھائی سے نکاح کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مجھے یہ پوچھنا تھا کہ کیا میرے چاچو کے بیٹے کا میری بیٹی کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے؟ کیونکہ وہ میری بیٹی کا چاچو ہوا ۔ میں نے پہلے بھی کہیں سے پوچھا تھا تو انہوں نے بتایا کہ ہو سکتا ہے ، لیکن وہ تو اس کا چاچو ہوا نا ؟ سب کہتے ہیں کہ شادی ہو جائے گی لیکن میرا دل نہیں مان رہا ۔ جواب

Answer (beginning)

اگر کوئی اور وجہ حرمت مثلاً رضاعت وغیرہ نہ ہو تو آپ کے چچا کے بیٹے کا آپ کی بیٹی سے نکاح بالکل جائز ہے کہ وہ آپ کی بیٹی کا حقیقی چا نہیں، کیونکہ حقیقی بچا وہ ہوتا ہے جو اپنے والد کا حقیقی بھائی ہو، جبکہ وہ آپ کا حقیقی بھائی نہیں، کزن ہے ۔ اگر آپ چا کے بیٹے کو اپنا حقیقی بھائی سمجھتے ہیں تو پھر چا کی بیٹی بھی آپ کی حقیقی بہن ہونی چاہئے اور چا کی بیٹی سے بھی نکاح حرام ہونا چاہئے ، حالانکہ چاکی بیٹی سے نکاح کرنا بالکل جائز ہے، تو پتا چلا کہ آپ کے چا کی اولاد آپ کے حقیقی بہن بھائی نہیں ، تو جب چا کا بیٹا آپ کا حقیقی بھائی نہیں تو پھر آپ کی بیٹی کا حقیقی چچا بھی نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.