Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شریعت کا انکار کرنے کا حکم

Fatwa no.
4437-WAT
Issued
22 جمادی الاولی 1447ھ /14 نومبر 2025ء

Question

شریعت کا انکار کرنے والے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی مسلمان یہ کہے کہ میں شریعت کو نہیں مانتا، تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

شریعت کا انکار کفر ہے، لہذا ایسا کہنے والے شخص پر فرض ہے کہ وہ فورا توبہ و استغفار کرے، تجدید ایمان کرے ، اور اگر شادی شدہ ہے اور سابقہ بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے تو تجدید نکاح بھی کرے ۔ فتاوی رضویہ میں سوال ہوا زید اور خالد دونوں بھائی حقیقی ہیں، مسمی زید بقضائے الہی فوت ہو گیا ہے اور اس کا برادر خالد موجود ہے اور زید مرحوم کی دو بیویاں اور دو بیٹیاں موجود ہیں، زید مرحوم کے داماد نے مسمی خالد کو کہا بموجب شریعت مبارکہ حصہ تقسیم ہونا چاہئے کیونکہ ہم تم اہل اسلام پابند شریعت کے ہیں شرع محمدی پر فیصلہ ہونا چاہیئے خالد جو متروکہ زید پر قابض وجابر ہے صاف کہہ دیا کہ ہم کو شریعت نا منظور ہے بلکہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.