Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
درودِ پاک کا ایصالِ ثواب کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4432-WAT
- Issued
- 20 جمادی الاولی 1447ھ /12 نومبر 2025ء علم الافتاء اهلسنت
Question
کیا درود پاک کا ایصال ثواب ہو سکتا ہے ؟ جواب درود پاک کا ایصال ثواب کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
جی ہاں ! درود پاک کا ایصالِ ثواب ہو سکتا ہے کہ درود پاک عظیم نیکی ہے اور ہر نیکی کا ثواب، ایصال کرنا جائز ہے ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے "الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة كان أو صوما أوصدقة أو غيرها كالحج وقراءة القرآن والأذكار وزيارة قبور الأنبياء عليهم الصلاة والسلام والشهداء والأولياء والصالحين وتكفين الموتى وجميع أنواع البر، كذا في غاية السروجي شرح الهداية ترجمہ : اس باب میں قاعدہ یہ ہے کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ اپنے عمل کا ثواب دوسرے کو ہبہ کر دے ، خواہ وہ عمل نماز ہو یا روزہ ، یا صدقہ ، یا ان کے علاوہ ، جیسا کہ حج ، تلاوت قرآن ، اذکار، انبیائے کرام علیہم الصلاة…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.