Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لارَیب نام رکھنے کا حکم اور اسکا مطلب

Answered by
مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
Fatwa no.
4431-WAT
Issued
20 جمادی الاولی 1447ء /12 نومبر 2025 ء

Answer (beginning)

"لاریب " کا معنی ہے : "کوئی شک نہیں ۔ " یونہی اردو میں بھی یہ لفظ مستعمل ہے اور وہاں اس کا معنی ہوتا ہے : " بے شک، یقینا، تحقیق ۔ " الغرض یہ کوئی نام نہیں ، لہذا یہ نام نہ رکھا جائے ، بلکہ اس کے بجائے کوئی اسلامی با معنی نام رکھا جائے ۔ اور بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں ، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے ، پھر پکارنے کے لیے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اسمائے مبارکہ یا صحا بہ کرام و تا بعین عظام اور بزرگان دین رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.