Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دوسرے کی طرف سے سجدہ تلاوت کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4430-WAT
- Issued
- 21 جمادی الاولی 1447ھ / 13 نومبر 2025ء عالم الامية الملاك
Question
دوسرے کی طرف سے سجدہ تلاوت کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قرآن خوانی میں سب لوگ پارے پڑھتے ہیں ، کوئی ایک ان میں سے پورے چودہ سجدے کر لیتا ہے ، تو کیا اس طرح سب کے سجدہ تلاوت ادا ہو گئے یا نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
عبادت بد نیہ میں نیا بہت جاری نہیں ہوتی ، یعنی انہیں انجام دینے کے لیے بندہ کسی اور کو اپنا نائب نہیں بنا سکتا ، بلکہ اسے خود ہی ادا کرنی ہوگی ۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں جس مکلف یعنی عاقل بالغ نے آیت سجدہ تلاوت کی تو اس پر خود ہی سجدہ تلاوت کرنا واجب ہے ، اس کی طرف سے کوئی اور سجدہ تلاوت نہیں کر سکتا اور نہ ہی دوسرے کے ادا کرنے سے پڑھنے والے شخص کا سجدہ تلاوت ادا ہوگا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.