Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مہندی کے اوپر سے سر کا مسح کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
Fatwa no.
4427-WAT
Issued
21 جمادی الاولی 1447ھ / 13 نومبر 2025ء

Question

مہندی کے اوپر سے سر کا مسح کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سر پر مہندی لگائی ہو تو مسح کرنے سے مسلح ہو گا یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

بالوں پر فقط مہندی کا رنگ ہو، تو یہ وضو و غسل سے مانع نہیں ، لہذا ایسی صورت میں سر کا مسح کرنے سے مسح ہو جائے گا۔ البتہ !اگر مہندی کا لیپ بالوں پر موجود ہو، تواگر کم از کم سر کا چوتھائی حصہ مہندی سے خالی ہو تو صرف اس پر مسح کرلے (اور ہاتھ کو مہندی کے اوپر سے نہ گزارے کہ اس طرح ہو سکتا ہے مہندی کا رنگ پانی میں شامل ہو جائے اور وہ مائے مطلق نہ رہے کہ اس صورت میں پھر مسح درست نہیں ہوگا) اور اگر سارے سر پر مہندی ہے یا جتنا مہندی سے خالی ہے، وہ چوتھائی سے کم ہے ، تواب اگر مہندی کا لیپ اتنا گاڑھا ہے کہ نیچے سر پر پانی نہیں پہنچے گا، تواب مہندی کے اوپر سے مسح کرنے سے مسح نہیں ہوگا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.