Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عمیر نام رکھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4425-WAT
- Issued
- 18 جمادی الاولی 1447ھ / 10 نومبر 2025ء
Question
کیا عمیر نام رکھنا جائز ہے ؟ جواب عمیر نام رکھنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
حضرت عمیر رضی اللہ تعالی عنہ ، نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صحابی ہیں، لہذا صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے اور ان سے برکت حاصل کرنے کے لئے عمیر نام رکھ سکتے ہیں۔ الاصابۃ فی تمییز الصحابہ میں ہے عمیر بن ابی وقاص۔۔۔ اسلم قديماً وشهد بدرا“ ترجمہ : حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ شروع میں اسلام لائے اور غزوہ بدر میں شامل ہوئے ۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابة، جلد 4، صفحہ 602، دار الکتب العلمية، بیروت) الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخیار کم “ ترجمہ : اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.