Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کچھوا خرید و فروخت کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 4422-WAT
- Issued
- 19 جمادی الاولی 1447 / 11 نومبر 2025
Question
کچھوا بیچنا کیسا ہے ؟ جواب کچھوے کی خرید و فروخت کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
کچھوا خواہ خشکی کا ہو یا تری کا اس کی خرید و فروخت جائز نہیں کہ یہ خبائث حشرات سے ہے ۔ بدایہ میں ہے ”والسلحفاة من خبائث الحشرات “ترجمہ : کچھوا خبائث حشرات میں سے ہے ۔ (الہدایۃ، جلد 4، صفحہ 352، داراحیاء التراث العربی، بیروت) سمندری کچھوے کے متعلق فتح القدیر میں ہے "ولا يجوز بيع شيء من البحر إلا السمك كالضفدع والسرطان والسلحفاة وفرس البحر وغير ذلك“ یعنی : پانی کے جانوروں میں مچھلی کے علاوہ کسی بھی چیز کی خرید و فروخت جائز نہیں جیسا کہ مینڈک ، کیکڑا ، کچھوا اور دریائی گھوڑا وغیرہ ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.