Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا بیٹے کے گھر میں بھی قصر نماز پڑھیں گے؟
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4421-WAT
- Issued
- 19 جمادی الاولی 1447 / 11 نومبر 2025
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میں یو کے میں اپنی زوجہ کے ساتھ رہتا ہوں، اور یو کے میں ہی میری مستقل رہائش ہے ، جبکہ فقط بیٹا اٹلی یا اسپین میں رہتا ہے اور وہاں اس کی اپنی فیملی رہائش ہے، (میں نے اسے وطن نہیں بنایا ، نہ وہ میری جائے ولادت ہے) تو اگر میں وہاں پندرہ دن سے کم کے لئے جاؤں گا ، تو مسافر ہوں گا یا مقیم ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر آپ اٹلی یا اسپین میں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت سے جائیں، تو وہاں قصر نماز ادا کریں گے ، فقط بیٹے کی وہاں رہائش ہونے سے ، وہ جگہ آپ کے لئے وطن اصلی نہیں بنے گی۔ وطن اصلی کی تعریف کے بارے میں تنویر الابصار والدر المختار مع رد المحتار میں ہے (ما بين القوسين هوردالمحتار) الوطن الاصلى هو موطن ولادته او تاهله (ای تزوجه) او توطنه (ای عزم على القرار فيه و عدم الارتحال) ترجمہ : وطن اصلی وہ کہ جہاں اس کی پیدائش ہوئی ہو، یا اس نے وہاں شادی کرلی ہو، یا اسے اپنا وطن بنا لیا ہو، یعنی اب وہاں ہمیشہ رہنے اور اس جگہ کو نہ چھوڑنے کا عزم کر لیا ہو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.