Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس کارپیٹ کی پاکی ناپاکی معلوم نہ ہو اس پر نماز پڑھنا

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4420-WAT
Issued
19 جمادی الاولی 1447ھ / 11 نومبر 2025ء كان الامية الملاك

Question

جس کار پیٹ کی پاکی و ناپاکی کا علم نہ ہو اس پر نماز پڑھنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) مکہ شریف کے ہوٹل میں جو کار پیٹ بچھا ہوتا ہے اور یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ پاک ہے یا نا پاک، تو ایسے کار پیٹ پر نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

شرعی اصول یہ ہے کہ اشیا میں اصل طہارت ہے یعنی جب تک کسی چیز کے ناپاک ہونے کا یقین نہ ہو، اُس وقت تک وہ چیز پاک ہی شمار کی جائے گی، محض شک و شبہ کی وجہ سے کسی چیز کو ناپاک نہیں کہا جائے گا ۔ لہذا کار پیٹ پر جب ظاہرا کوئی ناپاکی نہیں اور ناپاک ہونے کا یقینی علم حاصل نہیں تو محض شک و شبہ سے اسے ناپاک قرار نہیں دیا جا سکتا ، وہ پاک ہی شمار ہوگا ، اور اس پر نماز پڑھنا درست ہو گا ۔ ملک العلماء علامہ ابو بحر کا سانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : "لا ینجس بالشک "ترجمہ : شک کی بنیاد پر کوئی چیز نجس نہیں ہوتی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.