Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سائبہ نام رکھنا کیسا؟
- Answered by
- ابو حص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4415-WAT
- Issued
- 16 جمادی الاولی 1447ھ/08 نومبر 2025ء كان الامية الملاك
Question
بچی کا نام سائبہ رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ہم اپنی بیٹی کا نام " سائبہ " رکھنا چاہتے ہیں تو بتائیں کہ کیا یہ نام رکھ سکتے ہیں؟ جواب
Answer (beginning)
جی ہاں !سائبہ نام رکھنا نہ صرف جائز بلکہ بہتر ہے کیونکہ یہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی صحابیہ رضی اللہ تعالی عنھا کا نام ہے ۔ یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی لونڈی تھیں اور ان سے لقطہ کے بارے میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت بھی مروی ہے ، اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ۔ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخیارکم“ ترجمہ : اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.