Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قبروں پر غبارے لگانا یا سجاوٹ کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد بلال عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4409-WAT
- Issued
- 14 جمادی الاولی 1447ھ /06 نومبر 2025ء
Question
قبروں پر تزئین و آرائش کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نیپال کے بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ جب کسی کا انتقال ہو جائے یا شب براءت ، عید میلادالنبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یا گیارہویں ہو تو قبروں پر تزئین و آرائش کے طور پر غبارے لگائے جاتے ہیں ؟ شرعا ایسا کرنا کیسا ؟ جواب
Answer (beginning)
قبروں پر تزئین و آرائش کے لیے غبارے لگانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ قبر زینت کا محل نہیں ہے ، لہذا یہ اسراف ہے ۔ اسراف سے منع کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : (وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ) ترجمہ کنز العرفان : اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (پارہ 8 ، سورۃ الاعراف، آیت : 31) فتاوی رضویہ میں ہے "حاصل حکم یہ ہے کہ قبور عامہ ناس پر روشنی جب کہ خارج سے کوئی مصلحت مصالح مذکورہ کے امثال سے نہ ہو ضرور اسراف ہے اور اسراف بیشک ممنوع ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.