Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دعا کے دوران اذان شروع ہو جائے تو کیا کریں؟
- Fatwa no.
- 4407-WAT
- Issued
- 14 جمادی الاولی 1447ھ /06 نومبر 2025ء
Question
دعا کے دوران، اذان شروع ہو جائے تو دعا جاری رکھیں یا اذان سنیں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم محفل میں دعا مانگ رہی تھیں کہ اذان شروع ہو گئی ، اب اذان کا جواب دیں یا دعا جاری رکھیں ؟ جواب
Answer (beginning)
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق جب اذان اور اقامت ہو تو اتنی دیر کے لیے بندہ سلام ، کلام ، تمام اعمال روک دے ، یہاں تک کہ اذان کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ دوران تلاوت اگر اذان شروع ہو جائے تو تلاوت روک کر اذان سنے اور اس کا جواب دے ۔ لہذا دعا کے دوران اگر اذان شروع ہو جائے تو دعا روک کر اذان سنیں اور جواب دیں ۔ اذان واقامت کے دوران کام کاج میں مشغول نہ ہونے کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے ”ولا ينبغي أن يتكلم السامع في خلال الأذان والإقامة ولا يشتغل بقراءة القرآن ولا بشيء من الأعمال سوى الإجابة، ولو كان في القراءة ينبغي أن يقطع ويشتغل بالاستماع والإجابة كذا في البدائع “ یعنی : سامع اذان اور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.