Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سمیہ نام رکھنا کیسا؟

Fatwa no.
4405-WAT
Issued
13 جمادی الاولی 1447ھ /05 نومبر 2025ء

Question

کیا سمیہ نام رکھنا جائز ہے ؟ جواب سمیہ نام رکھنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

جی ہاں اسمیہ نام رکھنا نہ صرف جائز بلکہ بہتر ناموں میں سے ہے کیونکہ یہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی صحابیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نام ہے ، اور حدی اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخیار کم “ترجمہ : اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58 ، حدیث : 2328، دار الكتب العلمية، بيروت) " اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ" میں ہے "سمية أم عمار بن ياسر وهي سمية بنت خباط، كانت أمة لأبي حذيفة بن المغيرة المخزومي، وكان ياسر حليفًا لأبي حذيفة، فزوجه سمية، فولدت له عمارًا ، فأعتقه أبو حذيفة.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.