Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وضو کے بعد جوتوں والی جگہ سے گزر کر مسجد جانا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4402-WAT
- Issued
- 12 جمادی الاولی 1447ھ / 04 نومبر 2025ء
Question
وضو کے بعد جو توں والی جگہ سے ننگے پاؤں گزر کر مسجد میں جانا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ہماری مسجد میں نماز کے لیے جائیں تو ہم جوتے اتار دیتے ہیں، پھر وضو کرتے ہیں اور نماز کے ہال کی طرف چلتے ہیں ۔ مگر راستے میں اس جگہ سے گزرنا پڑتا ہے جہاں جوتے رکھے جاتے ہیں۔ کیا اس سے ہمارے پاؤں ناپاک (نجس) ہو جاتے ہیں یا وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو کیا نماز گاہ بھی ناپاک ہو جاتی ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
محض جوتے رکھنے والی جگہ پر چلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ، خواہ اس جگہ پر نجاست ہو یا نہ ہو، مٹی کے ذرے ہوں یا نہ ہوں ۔ جہاں تک پاؤں ناپاک ہونے کی بات ہے تو اگر اس جگہ پر کوئی نجاست موجود ہو، جو پاؤں کو لگے تو اب پاؤں ناپاک ہو گا اور اسے پاک کرنا ہوگا، بغیر پاک کیسے اگر مسجد میں چلے گئے اور نجاست پاؤں سے چھوٹ کر زمین یا کارپٹ وغیرہ پر لگ گئی تو وہ جگہ بھی ناپاک ہو جائے گی ۔ اور اگر اس جگہ پر کوئی نجاست موجود نہ ہو تو پاؤں ناپاک نہیں ہوں گے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.