Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وسوسوں کی وجہ سے نماز چھوڑنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 4401-WAT
- Issued
- 12 جمادی الاولی 1447ھ /04 نومبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
وسوسوں کی وجہ سے نماز چھوڑنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) مجھے جب سے وسوسے آنا شروع ہوئے ، میں نے نمازیں چھوڑ دیں ، مجھے اس کا حل بتائیں ۔ جواب
Answer (beginning)
بلاوجہ شرعی جان بوجھ کر نماز چھوڑنا ، سخت ناجائز و حرام اور سخت گناہ کا کام ہے ، وسوسے آنا نماز چھوڑنے کا عذر نہیں ہے ۔ لہذا آپ نے بلاوجہ شرعی جو نمازیں چھوڑیں ، ان سے سچی توبہ کریں اور ان تمام نمازوں کی قضا بھی کریں ۔ وسوسوں کی وجہ سے نماز چھوڑ دینے میں تو شیطان کی مراد پوری کرنا ہے ، وہ خبیث اسی لیے وسوسوں کے ذریعے پریشان کرتا ہے تاکہ مسلمان نیکی کے راستے سے دور ہو جائے جبکہ مسلمان کو اس کے وار کو نا کام بناتے ہوئے نیکی کے کام کو نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ وسوسے کو دور کرنا چاہیے ، ناک پر مکھی بیٹھتی ہو تو ناک کاٹنے کے بجائے مکھی کو بھگانا چاہیے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.