Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تقدیر کے ساتھ تدبیر اختیار کرنا تقدیر کے منافی نہیں ہے؟

Answered by
مولانا اعظم عطاری مدنی
Fatwa no.
4399-WAT
Issued
12 جمادی الاولی 1447 / 04 نومبر 2025

Question

تقدیر کے ساتھ ساتھ تدبیر و احتیاط اختیار کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا ایسا کہنا درست ہے کہ تقدیر کے ساتھ ساتھ تدبیر و احتیاط اختیار کرنا تقدیر کے منافی نہیں ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

جائز معاملات میں تدبیر و احتیاط اختیار کر ناشر عا مستحسن یعنی اچھا عمل ہے اور اس کی بہت ساری صورتیں ایسی ہیں جو شرعا مستحب و مسنون ہیں کیونکہ دنیا عالم اسباب ہے اور اللہ پاک کی سنت جاریہ ہے کہ سبب کے بعد مسبب پیدا فرماتا ہے ۔ لہذا تقدیر پر ایمان کے ساتھ ساتھ رزق روزی وغیرہ معاملات میں تدبیر و احتیاط اور اسباب کو بھی اختیار کیا جائے اور یہ تقدیر کے بالکل منافی نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام و صحا بہ کرام علیہم الرضوان نے تقدیر پر ایمان کے ساتھ ساتھ تد بیر و احتیاط کو بھی اختیار فرمایا ہے اور اس کی ترغیب بھی دلائی ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.