Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نو مسلم کیلئے بھی ختنہ ضروری ہے؟

Answered by
مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
4398-WAT
Issued
11 جمادی الاولی 1447ء 03 نومبر 2025

Question

نو مسلم کے ختنے کے متعلق حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی بالغ غیر مسلم ، مسلمان ہو جائے تو اس کے ختنے کا کیا حکم ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

اگر کوئی بالغ غیر مسلم ، مسلمان ہو جائے تو اس کا بھی ختنہ کیا جائے گا۔ اگر خود کر سکتا ہو تو خود کرلے یا کوئی عورت ایسی مل جائے جو ختنہ کرنا جانتی ہو ، تو ممکن ہو تو اس سے اس کا نکاح کروا دیا جائے ، پھر وہ اس کا ختنہ کر دے ، اس کے بعد چاہے تو اسے طلاق دے دے ۔ اور اگر یہ صورتیں نہ ہوں تو ڈاکٹر یا حجام بھی ختنہ کر سکتا ہے کہ ایسی ضرورت کے لیے ستر دیکھنا، دکھانا منع نہیں ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.