Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کے ذمے سجدۂ تلاوت کے فدیے کی تفصیل
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4394-WAT
- Issued
- 09 جمادی الاولی 1447 / 01 نومبر 2025. علام الاقناة اهلسنت
Question
میت کے ذمے سجدہ تلاوت ہوں تو ان کے فدیے کے متعلق تفصیل دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) وہ میت جس کے ذمہ سجدہ تلاوت ادا کرنا باقی تھا، تو اس کے فدیہ میں ایک ہی صدقہ فطر ادا کیا جائے گا یا دو صدقۂ فطر دینے ہوں گے ؟ جواب
Answer (beginning)
میت پر جتنے سجدہ تلاوت واجب تھے اور ادا نہ کئے تو اتنے سجدہ تلاوت کی مقدار صدقہ فطر ادا کئے جائیں گے ، مثلاً ایک سجدہ تلاوت باقی تھا تو ایک صدقۂ فطر اور دس سجدہ تلاوت باقی تھے تو دس صدقہ فطر ادا کئے جائیں گے ، ایک سجدہ تلاوت کی طرف سے دوصدقہ فطر دینے کا حکم نہیں ہے ۔ نیز یادر ہے کہ سجدہ تلاوت کا فدیہ ادا کرنا واجب نہیں ہے ، البتہ ! بہتر ہے کہ اس کا فدیہ بھی ادا کر دیا جائے ۔ اور اگر میت نے وصیت نہیں کی اور وارث اپنے طور پر ادا کرنا چاہے تو ادائیگی درست ہے اور ادا کرنے والے کو اس کا ثواب ملے گا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.