Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا مقروض زکوٰۃ ادا کرنے کا وکیل بن سکتا ہے؟

Answered by
مولانا محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
4391-WAT
Issued
09 جمادی الاولی 1447 / 01 نومبر 2025 ء

Question

مقروض کو قرض والی رقم سے زکوۃ ادا کرنے کا وکیل بنانا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی اپنی بہن سے ادھار لے اور وہ یہ کہے کہ : "جب تمہارے پاس ہوں، تو کسی زکوۃ کے مستحق کو دے دینا" تو کیا یہ درست ہے ؟ کیا یوں بہن کی زکوۃ ادا ہو جائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں بھائی اپنی بہن کا وکیل بن جائے گا اور پھر جب وہ اپنی بہن کی طرف سے کسی مسلمان، مستحق زکوۃ کو زکوۃ ادا کر دے گا تو اس وقت بہن کی زکوۃ ادا ہو جائے گی۔ بدائع الصنائع میں ہے "الزكاة عبادة عندنا والعبادة لا تتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فیصیر مؤدیا بید النائب "ترجمہ : ہمارے نزدیک زکوۃ ایک عبادت ہے ، اور عبادت جس پر فرض ہے اُس کے اختیار کے بغیر ادا نہیں ہو سکتی، یا وہ خود (براہِ راست) ادا کرے ، یا کسی اور کو ادائیگی کا حکم دے، یا کسی کو اپنا نائب بنائے، تو وہ نائب اُس کے قائم مقام ہوجائے گا پس نائب کے ہاتھ سے وہ خودادا کرنے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.