Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
صاحب ترتیب شخص کو دورانِ نماز قضا نماز یاد آنے کا حکم
- Fatwa no.
- 4390-WAT
- Issued
- 08 جمادی الاولی 1447ھ /31 اکتوبر 2025ء
Question
صاحب ترتیب کو دورانِ نماز قضا نما ز یاد آئے تو کیا کرے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کی فجر کی نماز قھنا ہو گئی ( اس سے پہلے کوئی نماز قضا نہیں تھی) اور اس نے فجر کی قضا نماز کوادا کیے بغیر ظہر پڑھنا شروع کردی، دوران نماز سے یاد آیا کہ اس کی فجر باقی ہے ، تو کیا اب وہ ظہر کی نماز پوری پڑھ کر فجر کی قضا کرے ؟ جواب
Answer (beginning)
جان بوجھ کر کسی ایک وقت کی بھی نماز قضا کرنا گناہ کبیرہ ، ناجائز و حرام ہے ، جس سے توبہ کرنا اور قضا نماز کو جلد از جلد ادا کرنا بھی ضروری ہے ۔ اور جہاں تک سوال کا تعلق ہے تو اصول شرع کے مطابق صاحب ترتیب (جس کی کوئی نماز قضاء نہ ہو یا ہوں تو چھ سے کم ہوں) اگر بھول کر وقتی نماز شروع کر دے اور وقت میں گنجائش بھی ہو، تو دوران نماز، قضا نما زیاد آنے سے وقتی نماز فاسد ہو جائے گی اور اس کو ختم کر کے پہلے قضا نماز ادا کی جائے گی اور اس کے بعد وقتی نماز، لہذا ظہر کی نماز کے دوران جب فجر کی قضا یاد آئی، تو اگر ظہر کے وقت میں گنجائش ہے، تو ظہر کی نماز چھوڑ کر پہلے فجر کی نماز ادا کی جائے گی ، پھر اس کے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.