Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

داڑھی کا مذاق اڑانے کا حکم

Question

داڑھی کا مذاق اڑانے والے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا داڑھی کا مذاق اڑانے سے آدمی کا فر ہو جاتا ہے ، مثلاً اگر یہ کہا کہ تمہاری بکرا داڑھی ہے ۔ جواب

Answer (beginning)

داڑھی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی سنت متواترہ اور شعائر اسلام میں سے ہے ، اس کا مذاق اڑانا یا توہین کرنا ناجائز و حرام بلکہ کفر ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر " بکر ا داڑھی " کہنے میں سنت داڑھی کا مذاق اڑانا مقصود تھا یا اس کی توہین کی نیت تھی ، تو کہنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا ، اس پر فوراً تو بہ کرنا اور تجدید ایمان کرنا فرض ہے اور اگر شادی شدہ تھا تو تجدید نکاح بھی کرے ، لیکن اگر سنت کا مذاق یا توہین کا قصد نہیں تھا تو حکم کفر نہیں ، مگر پھر بھی یوں کہنا نا جائز ہے ؟ کہ سامنے والے کی دل آزاری اور ایڈا کا باعث ہے اور مسلمان کو بلا وجہ شرعی ایذا دینا حرام ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.