Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غیر متعین قیام کی نیت ہو تو مسافر قصر پڑھے گا؟
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4376-WAT
- Issued
- 07 جمادی الاولی 1447 / 30 اکتوبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
گی ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص کو بانوے (92) کلومیٹر سے اوپر کا سفر کرنا ہے ، جہاں اس کو جانا ہے ، اس کو یہ نہیں پتا کہ وہاں کتنے دن رہے گا؟ پندرہ (15) دن یا اس زیادہ بھی رہ سکتا ہے اور کم بھی، جب کام ہو گا تو چلا آئے گا، کیا یہ وہاں قصر نماز پڑھے گا ؟ جواب
Answer (beginning)
دریافت کی گئی صورت میں اگر واقعی وہاں پندرہ (15) دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی متعین نیت نہیں بلکہ جب کام ہو جائے گا واپس آجائے گا، تو ایسی صورت میں وہ مسافر ہی رہے گا، خواہ یوں مہینوں گزر جائیں، لہذا جب تک ایسی تردد (شک) والی نیت کے ساتھ وہاں رہے ، قصر نماز ہی پڑھے گا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ”ولو بقي في المصر سنين على عزم أنه إذا قضى حاجته يخرج ولم ينو الإقامة خمسة عشر یو ماقصر ترجمہ : کسی شہر میں چند سال اس ارادے کے ساتھ ٹھہرا کہ جب اس کی حاجت پوری ہو جائے گی وہ چلا جائے گا اور اس نے پندرہ دن وہاں ٹھہرنے کی نیت نہ کی تو وہ قصر پڑھے گا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.