Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سوتیلے باپ کی لڑکی سے نکاح کا حکم
- Answered by
- مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4374-WAT
- Issued
- 06 جمادی الاولی 1447ھ /29 اکتوبر 2025ء
Question
سو تخلیے باپ کی لڑکی سے نکاح کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص کے والد صاحب کا انتقال ہوا، تو اس کی والدہ کا نکاح اس شخص کے پہلے سے شادی شدہ چاچو سے کر دیا گیا، اب کیا اس شخص کا نکاح اس چاچو کی پہلی بیوی کی لڑکی سے کیا جاسکتا ہے؟ جواب
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں اس شخص کا نکاح اس کے چاچو کی ، پہلی بیوی کی بیٹی سے کیا جاسکتا ہے ، جبکہ ممانعت کی کوئی اور وجہ مثلا رضاعت یا حرمت مصاہرت وغیرہ نہ ہو کیونکہ دونوں کے والدین الگ الگ ہیں ۔ صدر الشریعہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کا نکاح ایک بیوہ عورت سے ہوا تھا، اس عورت کا ایک لڑکا اگلے مرد سے ہے اور اب جس مرد سے نکاح کیا ، اس مرد کی پہلی عورت سے ایک لڑکی ہے ، اب دونوں لڑکے لڑکی باہم نکاح کرنا چاہتے ہیں تو یہ درست ہے یا نہیں ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.