Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حالت احرام میں بغیر شہوت عورت کو چھونے سے دم کا حکم

Answered by
ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
Fatwa no.
4373-WAT
Issued
06 جمادی الاولی 1447ھ / 29 اکتوبر 2025ء

Question

حالت احرام میں بلا شہوت کسی عورت کو چھو لیا تو کیا دم لازم آئے گا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک عورت حج کے موقع پر جمروں کو کنکریاں مارتے وقت گرنے لگی تو اس کے پیچھے ایک شخص نے حالت احرام میں اس کی مدد کی اور اسے گرنے سے بچانے کی نیت سے پکڑا لیکن اس دوران بغیر شہوت کے اس کے سینہ پر ہاتھ لگ گیا تو ایسی صورت میں ایسے شخص پر دم لازم آئے گا ؟ جواب

Answer (beginning)

جب سوال میں مذکور محرم شخص نے عورت کو گرنے سے بچانے کی نیت سے پکڑا اور اسی دوران بغیر شہوت اس کا ہاتھ عورت کے سینہ پر لگا تو ایسی صورت میں اس محرم شخص پر دم لازم نہیں آئے گا کہ حالت احرام میں عورت کے بدن کو شہوت کے ساتھ چھونے کی صورت میں دم لازم آتا ہے جبکہ مذکورہ صورت میں اس نے عورت کو گرنے سے بچانے کی نیت سے چھوا ہے نہ کہ شہوت کے ساتھ ۔ مناسک ملا علی قاری میں ہے ”(ولوقبل امرأته مودعالها إن قصد الشهوة) أي: بتقبيل المرأة (فعليه الفدية، وإلا) بأن قصد الموادعة (فلا) أي : فلا فدية عليه ( وإن كان قال: لا قصدت هذا ) أي : هذا الأمر من الشهوة (ولا ذاك) أي قصد الوداع (لا يجب شيء ) لأن الشرط تحقق…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.