Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دوران نماز ریح کا غلبہ ہونے سے مراد
Question
دوران نماز ریح کا غلبہ ہونے سے کیا مراد ہے ؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) نماز کے دوران ریح کا غلبہ ہو تو نماز توڑ دینی چاہیے ، اس غلبہ سے کیا مراد ہے ؟ نیز اگر نماز نہ توڑی اور مکمل کر لی توکیا نماز واجب الاعادہ ہوگی ؟ رہنمائی فرما دیں ۔ جواب
Answer (beginning)
نماز کے دوران ریح کے غلبہ سے مراد یہ ہے کہ : "ریح کی اتنی شدت ہو کہ نمازی کا دل ہے ، توجہ اس کی طرف ہو جائے ۔ " اور غلبہ ریح کی صورت میں وقت کے ختم ہونے کا خوف نہ ہو تو نماز کو توڑنا واجب ہے ، خواہ جماعت فوت ہوتی ہو ، اور اگر نماز نہ توڑی اور اسی حالت میں نماز پڑھ لی، تو نماز مکروہ تحریمی ہوئی ، جس کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔ اور اگر پاخانہ یا پیشاب معلوم ہوا مگر اس کی شدت نہیں تو نماز توڑ دینا واجب نہیں لیکن بہتر ہے ، بشر طیکہ وقت وجماعت نہ فوت ہو ، اور اگر بلا وجہ اسی حالت میں نماز پڑھ لی تو مکروہ تنزیہی ہے ۔ "1 ردالمختار میں ہے "(قوله وصلاته مع مدافعة الأخبثين إلخ) أي البول والغائط.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.