Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا عورت نومولود بچے کو گھٹی دے سکتی ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4365-WAT
- Issued
- 02 جمادی الاولی 1447 / 25 اکتوبر 2025. علم الافتاء اهلسنت
Question
عورت کا بچے کو گھٹی دینا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا عورت نومولود بچے کو گھٹی دے سکتی ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
نیک اور متبرک لوگوں سے گھٹی دلانی چاہیے خواہ وہ عورت ہی ہو ۔ بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے : " غدوت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعبد الله بن أبي طلحة ليحنكه "ترجمہ : میں صبح کے وقت اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عبد اللہ بن ابی طلحہ کو لے کر حاضر ہوا تا کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ان کو گھٹی دیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.