Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طلاق دینے پر مال کی شرط لگانا کیسا؟

Fatwa no.
4362-WAT
Issued
01 جمادی الاولی 1447ھ /24اکتوبر 2025ء

Question

طلاق دینے پر مال کی شرط لگانا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) جب نکاح کے وقت نکاح کے ساتھ کچھ رقم یا مال یعنی سونا چاندی وغیرہ بھی طے کیا جاتا ہے کہ جب لڑکا لڑکی کو طلاق دے گا تو وہ طے شدہ رقم یا مال بھی ساتھ دے گا ، اب لڑکے نے لڑکی کو طلاق دے دی لیکن وہ طے شدہ رقم یا مال جو کہ شرط کے طور پر لکھا گیا تھا وہ نہیں دے رہا، تو اب طلاق صرف کہنے سے ہوگی یا طلاق کے لیے وہ مال دینا ضروری ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

بغیر حاجت بلا عذر شرعی طلاق دینا مکروہ و ممنوع ہے مگر شرع کی طرف سے شوہر طلاق دینے میں مستقل با اختیار ہے اگر وہ طلاق دے دے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی، خواہ طلاق دینے پر مال کی شرط رکھی ہویا نہ رکھی ہو ، اور شوہر نے مال دیا ہویا نہ دیا ہو، بلکہ طلاق دینے پر مال کی شرط لگانا کہ طلاق دی تو اتنی رقم دینی ہوگی ، یہ شرط ہی شرط فاسد اور شریعت کے خلاف ہے ، ایسی شرط لگانے کی شرعا اجازت نہیں ہے کیونکہ طلاق دینے پر مال دینے کی شرط لگانا ،مالی تعزیر ہے اور مالی تعزیر منسوخ ہے ، اور شرط فاسد اگر نکاح میں لگائی جائے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، نکاح درست ہو جاتا ہے اور شرط باطل ہو جاتی ہے ، لہذا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.