Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زبان پر فالج ہو تو نماز پڑھنے کا طریقہ

Fatwa no.
4361-WAT
Issued
01 جمادی الاولی 1447 - 24 اکتوبر 2025. دار الافتا اهلسنت

Question

زبان پر فالج ہو تو نماز ادا کرنے کا طریقہ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کو زبان پر فالج ہو جائے اور اس کی وجہ سے اس سے لفظ ادا ہی نہ ہوں، تو کیا وہ دل میں نماز پڑھے تو اس کی نماز ہو جائے گی یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

اگر کوئی شخص عاقل و بالغ ہے لیکن زبان پر فالج ہونے کی وجہ سے ، وہ الفاظ کی ادائیگی پر قادر نہیں ہے تو وہ نماز کے تمام افعال (جیسے قیام ، رکوع، قومہ ، سجدہ ، قعدہ ویسے ہی ادا کرے گا جیسے عام مسلمان کرتے ہیں اور تلاوت، تکبیرات اور دعائیں دل میں پڑھے گا ، اس پر الفاظ کی ادائیگی واجب نہیں ہے بلکہ دل میں ارادہ کافی ہے جیسے گونگے کا معاملہ ہے ۔ در مختار میں ہے ”(ولا يلزم العاجز عن النطق) كأخرس و أمي (تحريك لسانه) و كذافي حق القراءة هو الصحيح لتعذر الواجب، فلا يلزم غيره إلا بدليل فتكفي النية ترجمہ : جو شخص بولنے پر قادر نہیں ، جیسے گونگا اور امی ، اس کے لیے ( تکبیر تحریمہ کے لیے ) زبان کو حرکت دینا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.