Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام کو لقمہ دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4360-WAT
- Issued
- 29 ربیع الآخر 1447 هـ / 23 اکتوبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
امام کو لقمہ دینے کے لئے کیا کہنا چاہیئے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) امام کو لقمہ دینے کے لیے اللہ اکبر کہنا چاہیے ؟ یا سحان اللہ کہنا چاہیے ؟ حدیث میں کس کا ذکر ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
امام سے نماز میں غلطی ہو جانے پر لقمہ دینے کا مقصد امام کو غلطی کی طرف متوجہ کرنا ہے اور اس کے لیے سبحان اللہ کہنا بہتر ہے ، کیونکہ حدیث میں اس کا ذکر موجود ہے اور اللہ اکبر کہہ کر لقمہ دینا بھی جائز ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” من نابه شيء في صلاته فليسبح، فإنه إذا سبح التفت إليه، ترجمہ : جسے نماز میں کوئی معاملہ پیش آئے ، تو اسے چاہیے کہ سبحان اللہ کہے ، کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا، تو امام متوجہ ہو جائے گا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.