Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عامر نام رکھنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
Fatwa no.
4357-WAT
Issued
28 ربیع الثانی 1447ء / 22 اکتوبر 2025ء

Question

عامر نام رکھنا کیسا ؟ جواب بچے کا نام عامر رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

عامر نام رکھنا جائز ہے ، بلکہ یہ صحابی رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم و رضی اللہ تعالی عنہ کا نام مبارک بھی ہے کہ کم ین صحابہ میں سے ایک صحابی کا نام حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ ہے اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ۔ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخیار کم “ترجمہ : اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58 ، ، حدیث : 2328، دار الكتب العلمية، بيروت) معرفتہ الصحابہ لابی نعیم میں ہے ”عامر بن واثلة۔۔۔ ادرک من زمان النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثمان سنین ۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.