Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اونچا سننے والے امام کی امامت درست ہے؟

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
Fatwa no.
4352-WAT
Issued
26 ربيع الآخر 1447ء / 20 اکتوبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

اونچا سننے والے آدمی کی امامت کا حکم دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) جو امام اونچا سنتا ہو اور اس وجہ سے نماز میں غلطی ہو جانے پر بعض اوقات دوسرے کا لقمہ نہ سن پاتا ہو ، تو اس کا امامت کروانا کیسا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

اونچاسنے والا شخص اگر امامت کی شرائط و ضروریات کا جامع ہو تو ایسا شخص امامت تو کرواسکتا ہے ، مگر اس کے علاوہ وہ شخص بہتر ہے کہ جو صحیح سنتا ہو اور مسائل نماز و طہارت میں اس سے کم نہ ہو۔ امام اہل سنت ، امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی علیہ بہرے کی امامت کے متعلق فرماتے ہیں : "بہرے کے پیچھے نماز جائز ہے ، مگر اس کا غیر اولی ( بہتر) ہے ، جبکہ علم مسائل نماز و طہارت میں اس سے کم نہ ہو اور غلطی جس پر لقمہ نہ لیا ، اگر مفسد نماز تھی ( یعنی نماز کو توڑ دینے والی تھی اور امام نے لقمہ نہیں لیا)، نماز جاتی رہی ، ورنہ نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.