Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نومولود بچے کے کان میں ریکارڈ شدہ اذان سنانا
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4351-WAT
- Issued
- 27 ربیع الثانی 1447 / 21 اکتوبر 2025. كان الامية الملك
Question
نومولود کے کان میں ریکارڈ شدہ اذان سنانے کا حکم دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میرا بیٹا پیدا ہونے والا ہے اور میں جرمنی میں ہوتا ہوں ، تو کیا میں وہاں سے اذان و اقامت موبائل میں ریکارڈ کر کے بھیج دوں اور وہ بچے کو سنا دی جائے، کیا ایسا کرنا صحیح ہو گا ؟ جواب
Answer (beginning)
نومولود بچے کے کان میں ریکارڈ شدہ اذان واقامت سنا نا کفایت نہیں کرے گا، کیونکہ ریکارڈ شدہ آواز براہ راست دی جانے والی آواز نہیں ہے ، جبکہ یہاں براہ راست آواز ہی معہود و مطلوب ہے ۔ نوٹ : یادر ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ بچے کے کان میں اذان و اقامت کہنے والا والد ہی ہو بلکہ کوئی بھی مسلمان بچے کے کان میں اذان و اقامت کہہ سکتا ہے ۔ ہاں ! اگر بالفرض بچے کے کان میں اذان دینے والا کوئی پاس موجو نہیں ہے ، یا بچہ ایسی جگہ ہو جہاں جا کر اذان دینے کی صورت نہیں اور جو پاس ہے وہ کسی وجہ سے اذان نہیں دے سکتا تو یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ موبائل پر کال کے ذریعے کوئی براہ راست اذان اور اقامت کہے اور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.