Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کافر کو چرس بیچنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4349-WAT
- Issued
- 27 ربیع الثانی 1447 - / 21 اکتوبر 2025. كان الامية الملك
Question
کفار کو چرس بیچنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا یو کے میں کفار کو مطلقاً اور مسلمانوں کو دوائی کے لئے چرس بیچ سکتے ہیں ؟ رہنمائی فرما دیں ۔ جواب
Answer (beginning)
دوا میں تھوڑی سی مقدار چرس ڈالنا کہ جس سے نشہ نہ آئے ، جائز ہے ، اور دوا کے لئے چرس بیچنے اور خریدنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔ البتہ دوا کے علاوہ محض حصول لذت کے لئے یا بطور مشغلہ چرس کھا نا اگرچہ تھوڑی ہی مقدار کیوں نہ ہو جائز نہیں ہے اور ایسے کے ہاتھ چرس بیچنا بھی جائز نہیں خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ علامہ ابن عابدین الشامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : " والحاصل : ان استعمال الكثير المسكر منه حرام مطلقا ۔۔۔ واما القليل : فان كان للهو حرم“ ترجمہ : خلاصہ یہ ہے کہ ان کا کثیر استعمال جو نشہ دے ، مطلقا حرام ہے اور بہر حال قلیل ، تو اگر وہ مشغلہ کے لیے ہو، تو (بھی) حرام ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.