Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اجنبی عورتوں سے ہاتھ ملانے والے پیر سے بیعت کا حکم

Question

اجنبی عورتوں سے ہاتھ ملانے والے پیر کی بیعت کا حکم دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی پیر اجنبی جوان عورتوں سے بھی ہاتھ ملاتا ہو تو کیا اس کی بیعت توڑ سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

جو پیر اجنبیہ جوان عورتوں سے ہاتھ ملاتا ہو، اس کی بیعت توڑنا لازم و ضروری ہے بلکہ ایسے پیر سے بیعت ہونا ہی جائز نہیں کیوں کہ اجنبیہ جوان عورت سے ہاتھ ملانا، ناجائز و حرام ہے اور یہ کام اعلانیہ کرنے والا فاسق معلن ہے اور فاسق معلن سے بیعت ہونا ہی جائز نہیں، اور اگر ایسے پیر سے بیعت کرلی ہو تو اسے توڑ دینال ازم ہے ۔ نامحرم عورت کو چھونے کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : " لأن يطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمس امرأة لا تحل له“ ترجمہ : تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کا سوا (بڑی سوئی ) پنچھو دیا جائے ، یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ نا محرم خاتون کو چھوئے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.