Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پانی کب مستعمل ہوتا ہے؟

Answered by
ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
Fatwa no.
4343-WAT

Question

بے ڈھلا ہاتھ پانی میں ڈالتے ہی پانی مستعمل ہو گا یا ہاتھ پانی سے باہر نکالنے پر ؟ ہوگا یا دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی بے وضو شخص نے ٹپ میں موجود پانی میں انگلی ڈالی تو وہ پانی انگلی ڈالتے ہی مستعمل ہو جائے گا یا باہر نکالنے پر ہو جواب

Answer (beginning)

بے وضو یا بے غسلے شخص نے بے دھلا ہاتھ یا انگلی بلاضرورت قلیل (دہ دردہ سے کم) غیر جاری پانی میں ڈالی تو جب تک ہاتھ یا انگلی باہر نہیں نکالے گا، اس وقت تک پانی مستعمل نہیں ہوگا، کیونکہ پانی کے مستعمل ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عضو کو لگنے کے بعد اس سے جدا ہو جائے ، لگنے کے بعد جیسے ہی جدا ہوگا تو پانی مستعمل ہو جائے گا، اس سے پہلے یعنی جب تک عضو کے ساتھ متصل ہے ، مستعمل نہیں ہوگا ۔ در مختار میں ہے ”ید خل يده او ر جله في حب لغير اغتراف و نحوه فانه يصير مستعملا ترجمہ : اپنا ہاتھ یا پاؤں گڑھے میں ڈالا، (اگر چہ) چلو بھرنے وغیرہ کے لیے نہ ہو تو ( بھی ) پانی مستعمل ہو جائے گا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.