Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چوری کے پانی سے وضوکرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 4340-WAT
- Issued
- 16 ربیع الثانی 1447 / 10 اکتوبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
چوری کے پانی سے وضو کیا تو کیا وضو ہو جائے گا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا چوری کے پانی سے وضو ہو جائے گا ؟ اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جواب
Answer (beginning)
چوری کرنا ، ناجائز و حرام ہے ، اور چوری کرنے کی صورت میں توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ اگر وہ چیز موجود ہو تو چیز واپس کرنا ضروری ہوتا ہے اور تلف ( ضائع) ہو جائے تو اس چیز کا تاوان ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ، البتہ ! اگر کسی شخص نے چوری کے پانی سے وضو کر لیا تو اس کا وضو ہو جائے گا جبکہ وضو کے تمام فرائض صحیح ادا کیے ہوں اور تو بہ کے ساتھ ساتھ جتنا پانی صرف ہو چکا اس کا تاوان بھی لازم ہو گا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.