Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
احرام باندھنے کیلئے وضو یا غسل کرنا ضروری ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد آصف عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4337-WAT عالم الافيا اهلسنت
- Issued
- 23 ربيع الآخر 1447 هـ / 17 اکتوبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
ہر بار احرام باندھنے کے لیے وضو یا غسل کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا عمرہ کے لیے ہر بار جب مسجد عائشہ احرام کی نیت کرنے جاتے ہیں، تو وہاں وضو یا غسل کرنا لازمی ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
پہلے عمرے کا احرام ہو یا دوسرے کا، ہر احرام کے لیے سنت یہ ہے کہ با طہارت احرام باندھا جائے اور اس کے لیے غسل کرنا زیادہ بہتر ہے اور اگر کسی نے غسل کی جگہ وضو کر لیا تو یہ بھی کفایت کرے گا ۔ لہذا حتی المقدور با طہارت ہی احرام باندھا جائے ۔ البتہ ایہ وضو یا غسل لازمی نہیں ہے ، اگر کوئی غسل یا وضو کے بغیر بھی عمرے کی نیت سے تلبیہ کہے تو اس کا احرام اور پابندیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ البتہ یہ واضح رہے کہ عمرے کا طواف کرتے وقت وضو ہونا ضروری ہے ۔ در مختار میں ہے ”و شرط لنيل السنة ان يحرم وهو على طهارته “ترجمہ : سنت پانے کے لیے شرط ہے کہ وہ با طہارت احرام باند ھے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.